Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
236 - 558
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا وہ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد قتل نہ کرو، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے اور ظاہری و باطنی بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ اور جس جان (کے قتل) کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق نہ مارو۔ تمہیں یہ حکم فرمایا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ۔
{ قُلْ تَعَالَوْا:تم فرماؤ آؤ۔} یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ حقیقی حلت و حرمت کے متعدد احکام بیان فرمائے ہیں جو خود اُس خالقِ کائنات نے عطا فرمائے ہیں۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے 9چیزوں کی حرمت بیان فرمائی ہے (1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ (2) ماں باپ کے ساتھ بھلائی نہ کرنا۔ (3) مفلسی کے باعث اپنی اولاد قتل کرنا۔ (4) بے حیائی کے کام کرنا چاہے ظاہری ہوں یا باطنی۔ (5) ناحق قتل کرنا۔ (6) یتیم کے مال میں بے جا تَصَرُّف کرنا۔ (7) ناپ تول میں کمی کرنا۔ (8) ناحق بات کہنا۔ (9)اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کرنا۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ یہ کائنات کا بدترین جھوٹ اور صریح ناشکری و احسان فراموشی ہے۔ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ تم پر ان کے بہت سے حقوق ہیں ، اُنہوں نے تمہاری پرورش کی، تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا، تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی، اُن کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور اُن کے ساتھ حسنِ سلوک کا ترک کرنا حرام ہے۔ معلوم ہوا کہ ماں باپ اگرچہ کافر ہوں ان کے ماں باپ ہونے کی حیثیت سے جو حقوق ہیں انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔ اس احسان میں والدین کے ساتھ تمام قسم کے اچھے سلوک داخل ہیں۔ ان کا ادب، لحاظ، ان پر ضرورت کے وقت مال خرچ کرنا، بعد ِ وفات ان کیلئے ایصالِ ثواب سب داخل ہیں۔
{ وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَوْلٰدَکُمۡ:اپنی اولاد قتل نہ کرو۔} اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حرمت بیان فرمائی گئی