منع فرماتا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ اِس میں اُس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ وہ تو غنی ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں البتہ چونکہ وہ رحمت والا ہے اس لئے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے اور تمہیں تمہارے بھلے کی باتیں بتاتا ہے ورنہ اگروہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جیسے بہت سی قوموں کو اس نے فنا کردیا یا جیسے تم دوسروں کے بعد اس دنیا میں آئے اسی طرح تمہارے بعد دوسرے آجائیں گے تو اس دنیوی زندگی اور مال و متاع پر غرور نہ کرو۔
اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ ۙ وَّ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعْجِزِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم (اللہ کو)عاجز نہیں کرسکتے۔
{ اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ:بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے چاہے وہ قیامت ہو یا مرنے کے بعد اُٹھنا یا حساب یا ثواب و عذاب۔ یہ سب چیزیں ضرور آئیں گی مگر اپنے وقت پر، تم دیر سے دھوکہ مت کھاؤ بلکہ اس سے بچنے کے اسباب جمع کرو کیونکہ نہ ہم مجبور ہیں نہ جھوٹی خبر دینے والے اور نہ تم طاقت ور کہ ہم سے مقابلہ کر کے بچ سکو لہٰذا مقابلہ نہ کرو بلکہ خوف کرو۔
موت سے غافل رہنے والوں کو نصیحت:
اس آیتِ کریمہ میں موت سے غافل رہنے والوں کے لئے بھی بہت عبرت ہے کیونکہ ہر انسان سے موت کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ بہر صورت آکر ہی رہے گی۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ موت کو بکثرت یاد کیا کرتے اور لوگوں کو اس کی یاد دلایا کرتے تھے ، چنانچہ
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ میری پلکیں ملنے سے پہلے میری روح قبض کر لی جائے گی۔ میں جب نظر اٹھاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ نظر نیچی کرنے سے پہلے میرا وصال ہو جائے گا،میں جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لقمہ گلے سے اترتے وقت میرے لئے موت کا سبب بن جائے گا۔اے آدم کی اولاد!