{ وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ:اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں۔} ہر ایک کے لیے چاہے وہ نیک ہو یا گنہگار اس کے اچھے اور برے اعمال کے اعتبار سے درجے ہیں اور انہی کے مطابق ثواب ا ور عذاب ہوگا۔ جنتیوں کو جنت میں ان کے نیک اعمال کے مطابق درجے دئیے جائیں گے، ایسے ہی جہنمیوں کو جہنم میں ان کے برے اعمال کے مطابق مختلف درجوں میں سزا دی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ نیک اعمال کے درجے مختلف ہیں۔ ایک ہی عمل ایک شخص کے لئے زیادہ ثواب کا باعث ہے اوردوسرے کے لئے کم ثواب کا۔ حدیث شریف میں ہے کہ’’ قیامت میں اعمال کا بدلہ عقل کے بَقدر ملے گا۔ (1)
لہٰذا اس آیت سے ہزارہا مسائل مُسْتَنْبَط ہو سکتے ہیں۔ عمل کا صلہ جگہ، وقت، موقعہ اور ضرورت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، جیسے جہاں مسجدیں بہت زیادہ ہوں اور کنوئیں کم ہوں وہاں مسجد کی بجائے کنواں بنوانا زیادہ اچھا ہے۔ اس آیت سے علماء نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ جنات بھی جنت میں جائیں گے کیونکہ یہاں سب کیلئے ’’دَرَجٰتٌ‘‘ فرمایا گیا ہے اور ’’کُل‘‘میں جنات بھی داخل ہیں۔ (2)
وَ رَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُوالرَّحْمَۃِ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذْہِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنۡۢ بَعْدِکُمۡ مَّا یَشَآءُ کَمَاۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب تمہارا رب بے پروا ہے رحمت والا اے لوگووہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور جسے چاہے تمہاری جگہ لائے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب! تمہارا رب بے پروا ہے، رحمت والا ہے۔ اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور جسے چاہے تمہاری جگہ لے آئے جیسے اس نے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد سے پیدا کیا۔
{ وَ رَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُوالرَّحْمَۃِ:اور اے حبیب! تمہارا رب بے پروا ہے، رحمت والا ہے۔} اس آیت سے یہ درس بھی ہوسکتا ہے کہ اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جو ایمان اور اعمالِ صالحہ کی دعوت دیتا ہے اور کفر و شرک اور بد اعمالیوں سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معجم الاوسط، باب البائ، من اسمہ بشر، ۲/۲۱۵، الحدیث: ۳۰۵۷۔
2…تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۴/۶۳، الجزء السابع۔