Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
211 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر میری آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں تمہارے آج کے اس دن کی حاضری سے ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا اور وہ خود اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
{یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ:اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ!۔} اس آیتِ مبارکہ میں جنات اور انسان دونوں سے خطاب ہوا کہ اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں پڑھ پڑھ کے سناتے تھے اور تمہیں اس دن یعنی روزِ قیامت کی حاضری اور عذابِ الٰہیسے ڈراتے تھے؟ کافر جن اور انسان اقرار کریں گے کہ رسول اُن کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے زبانی پیام پہنچایا اور اس دن کے پیش آنے والے حالات کا خوف دلایا لیکن کافروں نے اُن کی تکذیب کی اور اُن پر ایمان نہ لائے، انہیں در اصل دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا۔ کفار کا یہ اقرار اس وقت ہوگا جب کہ اُن کے اعضاء و جوارح ان کے شرک و کفر کی گواہی دیں گے۔
رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے متعلق اہم مسئلہ:
	رسول صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں جنات سے نہیں۔ چونکہ یہاں جن و انس دونوں سے خطاب ہے  اس لئے تَغْلِیْبًا یعنی جنوں کو انسانوں کے ماتحت شمار کرتے ہوئے مِنْکُمْ فرمایا گیا۔ بہرحال اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جنات میں نبی آئے، ہاں جنات کے لئے نبی آئے مگر وہ انسان تھے۔
{ وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ:اوروہ خود اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیں گے۔}قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اور اس میں حالات بہت مختلف پیش آئیں گے جب کفار مومنین کے انعام و اکرام اور عزت و منزلت کو دیکھیں گے تو اپنے کفرو شرک سے انکار کر دیں گے اور اس خیال سے کہ شاید مکر جانے سے کچھ کام بن جائے ، یہ کہیں گے ’’ وَاﷲِ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ‘‘ یعنی خدا کی قسم !ہم مشرک نہ تھے۔ اس وقت ان کے مونہوں پر مہریں لگادی جائیں گی اور اُن کے اعضاء ان کے کفر و شرک کی گواہی دیں گے، اسی کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا۔ ’’ وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ‘‘ (1)
ذٰلِکَ اَنۡ لَّمْ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲/۵۷۔