حلال چیزیں حرام قرار دینے والوں کو نصیحت:
اس آیتِ کریمہ کو پڑھ کر وہ لوگ غور کریں جواپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے چیزوں کو حرام یا حلال قرار دے کر گمراہ کرتے ہیں ، شریعت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی طرح ان حضرات کو بھی غور کرنے کی حاجت ہے جو اس جانورکو حرام کی صف میں داخل کر دیتے ہیں کہ جسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کیا گیا اور اس سے مقصود کسی ولی یا بزرگ کو ثواب پہنچانا تھا۔
{ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیۡنَ:بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔}یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنہوں نے اس چیز کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حلال کیا اور جسے اس نے حرام کیا اسے حلا ل کہہ دیا،اللہ تعالیٰ انہیں ان کی حرکتوں کی سزا دے گا۔ (1)
اس آیتِ مبارکہ سے ان لوگوں کو بھی ڈرنا چاہیے جو بغیر علم محض اپنی رائے سے حرام و حلال کا غلط فتویٰ دیتے ہیں۔
وَذَرُوۡا ظٰہِرَ الۡاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْسِبُوۡنَ الۡاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوۡا یَقْتَرِفُوۡنَ ﴿۱۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ظاہری اور باطنی سب گناہ چھوڑ دو بیشک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں عنقریب ان گناہوں کا بدلہ دیا جائے گا جن کا وہ اِرتکاب کرتے تھے۔
{ وَذَرُوۡا ظٰہِرَ الۡاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ:اور ظاہری اور باطنی سب گناہ چھوڑ دو۔} ظاہری اور باطنی گناہ کی تفسیر میں دو قول ہیں : (1) ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں کہ جن کا ارتکاب اعلانیہ اور مجمعِ عام میں ہو اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو چھپ کر کئے جائیں۔ (2) ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو ظاہری اعضاء سے کئے جائیں اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۲/۵۰-۵۱۔