Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
192 - 558
 عَلَیۡکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تو تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لئے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کرچکا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں سوائے ان چیزوں کے جن کی طرف تم مجبور ہوجاؤ اور بیشک بہت سے لوگ لاعلمی میں اپنی خواہشات کی وجہ سے گمراہ کرتے ہیں۔ بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
 { وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا:اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہ کھاؤ۔}یعنی اس جانور کو کھانے سے کیا چیز تمہیں روک رہی ہے جسے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیا ہے حالانکہ جوچیزیں حرام تھیں وہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تفصیل سے بیان فرما دی ہیں اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں فرمایا اسے حرام سمجھنا کیسی حماقت ہے۔ 
حرام چیزوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوتا ہے:
	اس سے معلوم ہوا کہ قانون یہ ہے کہ حرام چیزوں کا مفصل ذکر ہوتا ہے اور جس چیز کو حرام نہ فرمایا گیا ہو وہ حلال ہے۔ حرام چیزوں کا تفصیلی بیان متعدد سورتوں میں اور سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے فرامین میں موجود ہے۔ یونہی مجبوری کی حالت میں حرام چیز کھانے کا بیان قرآنِ پاک میں کئی جگہ موجود ہے۔
{ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ:اور بیشک بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں۔} کفار بحیرہ اور سائبہ بتوں پر چھوٹے ہوئے جانوروں کو تو حرام جانتے ہیں اور جو جانور غیرِ خدا کے نام پر ذبح ہوں یا خود مر جائیں انہیں حلال جانتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے لہٰذا ان جاہلوں کی بات نہ مانو۔