Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
167 - 558
وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور لوگوں نے جنوں کواللہ کا شریک بنا لیا حالانکہ اللہ نے توان جنوں کو پیدا کیا ہے اور لوگوں نے اللہ کے لئے جہالت سے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں حالانکہ اللہ ان کی بیان کی ہوئی چیزوں سے پاک اور بلند ہے۔ 
{وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ: اور لوگوں نے جنوں کواللہ کا شریک گڑھ لیا۔} ارشاد فرمایا کہ سابقہ آیات میں بیان کردہ دلائلِ قدرت اور عجائبِ حکمت اور اِس انعام و اکرام اور اِن نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کاتقاضا یہ تھا کہ اس کریم کار ساز پر ایمان لاتے لیکن اِس کی بجائے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا کہ جنوں کو خدا عَزَّوَجَلَّکا شریک قرار دیا کہ ان کی اطاعت کرکے بُت پرست ہوگئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کیلئے معاذاللہ بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بیان کی ہوئی چیزوں سے پاک اور بلند ہے اور یہ چیزیں اس کی شان کے لائق ہی نہیں۔
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِؕ اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنۡ لَّہٗ صٰحِبَۃٌ ؕ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ خٰلِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعْبُدُوۡہُ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۱۰۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بے کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اس کے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔