فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنۡ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشٰبِہٍ ؕ اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا پھر ہم نے اس کے ذریعے ہر اُگنے والی چیز نکالی تو ہم نے اس سے سرسبز کھیتی نکالی جس میں سے ہم ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے ابتدائی کچے شگوفوں سے (کھجور کے) خوشے (نکلتے ہیں جوپھلوں کی کثرت سے ) لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار (نکالتے ہیں جو) کسی وصف میں ایک دوسرے سے ملتے ہوتے ہیں اور کسی وصف میں جدا ہوتے ہیں۔ تم درخت کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف دیکھو جب وہ پھل دے۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
{وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً: اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا۔} سُبْحَانَ اللہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی قدرت کی کیسی عظیم دلیل بیان فرمائی کہ دیکھو پانی ایک ہے اور جس زمین سے سب کچھ اگ رہا ہے وہ ایک ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس سے جو چیزیں اگائیں وہ قسم قسم اور رنگارنگ کی ہیں توجو ربِ عظیم عَزَّوَجَلَّ ایک پانی سے اتنی قسم کی سبزیاں پیدا فرمانے پر قادر ہے تو وہ ایک صور کی پھونک سے سارے عالم کو مارنے اور زندہ کرنے پر بھی قادر ہے لہٰذا قیامت بر حق ہے۔