Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
154 - 558
 کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ تو ان کے مقابلے میں اور لوگوں کا حال کیا ہو گا ۔ (1)
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبُوَّۃَ ۚ فَاِنۡ یَّکْفُرْبِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تو اگر کفار اِن چیزوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس کیلئے ایسی قوم مقرر کررکھی ہے جو ان چیزوں کا انکار کرنے والی نہیں۔
{ اُولٰٓئِکَ: یہی وہ ہستیاں ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ جن انبیا ئِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا گیا یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں ہم نے کتاب ،حکمت اور نبوت عطا کی ہے تو اگر یہ کفارِ مکہ کتاب، حکمت اور نبوت کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان تمام چیزوں کے حقوق ادا کرنے کیلئے ایسی قوم مقرر کررکھی ہے جو ان چیزوں کا انکار کرنے والی نہیں۔ اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یاتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے والے وہ تمام مسلمان  جنہیں اللہ تعالیٰ خدمت ِدین کی توفیق بخشے جیسے مبلغین، علماء ،اولیاء سلاطین وغیرہا۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نصرت فرمائے گا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی۔ (2)
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا ؕ اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…  روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳/۶۲۔
2…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲/۳۴۔