کی شریعت جیسے حضرت اسمٰعیل، حضرت یَسع، حضرت یونس اور حضرت لوط عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (1)
اس شان سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کی ایک عجیب باریکی نظر آتی ہے۔
{ وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ:اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔} اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (2)
ذٰلِکَ ہُدَی اللہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ وَلَوْ اَشْرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔
{ ذٰلِکَ ہُدَی اللہِ:یہ اللہ کی ہدایت ہے۔}یہاں ہدایت سے مراد ا س چیز کی معرفت ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ویکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور ا س معرفت کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنے دین ، اپنی طاعت اور لوگوں کی طرف سے ٹھہرائے گئے اللہ تعالیٰ کے شریکوں سے بیزاری کا اظہار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ (3)
{ وَلَوْ اَشْرَکُوۡا: اور اگر وہ(بھی بالفرض) شرک کرتے۔}اس آیت میں عوام و خواص سب لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ ہوں کیونکہ جب فضیلت اور بلند مقام رکھنے والے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲/۳۳۔
2…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲/۳۳۔
3…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۲/۳۴۔