اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تم ان سے فرما دو کہ ’’میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں بلکہ میرا کام رہنمائی کرنا ہے جو میں نے احسن طریقے سے سر انجام دے دیا ہے جبکہ دلوں کی ذمہ داری مجھ پر نہیں کہ اگر تم ہدایت نہ پاؤ تو مجھ سے باز پرس ہو۔
لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان جاؤ گے۔
{ لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ: ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جو خبریں دیں اُن کے لئے وقت معین ہیں ،ان کا وقوع کسی تاخیر کے بغیر ٹھیک اسی وقت ہوگا اور عنقریب تم دنیا و آخرت میں ان خبروں کے درست ہونے کو جان لو گے ۔(1)
گناہوں پر اصرار نہ کیا جائے:
اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں کافروں اور گناہگاروں کے لئے عذابات کی جو خبریں دی ہیں ان کا اپنے وقت پرواقع ہونا یقینی ہے ،یہ اعلان سننے کے بعد بھی کفر پر اڑے رہنا اور گناہوں میں مشغول رہنا حد درجہ کی حماقت ہے لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفر اور گناہوں پر اصرار کرنا چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر خود کو ہلاکت سے بچا لے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ (گناہوں پر) اصرار کرنے والے ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنے گناہوں پر قائم ہیں (اور اس کے باوجود وہ توبہ و استغفار نہیں کرتے) حالانکہ وہ جانتے ہیں (کہ ان کافعل گناہ ہے ۔) (2)(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۷، ۲/۲۵۔
2…شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی الطبع علی القلب، ۵/۴۴۹، الحدیث: ۷۲۳۶۔
3…گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کا جذبہ پانے کے لئے دعوت اسلامی کے ساتھ وابستگی بہت فائدہ مند ہے۔