Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
131 - 558
مسلمانوں کی باہمی لڑائی کا ایک سبب:
	یاد رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنتِ جاریہ ہے کہ وہ (اپنی نافرمانی کرنے کی سزا میں ) مسلمانوں کو کافروں سے اور کافروں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے اسی طرح کافروں کو کافروں سے اور مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوا دیتا ہے جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ’’ جب آیت کا یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے‘‘ تو سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا کہ’’ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے‘‘ تو فرمایا، میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ حصہ نازل ہوا’’ یا تمہیں لڑوا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے‘‘ تو فرمایا: یہ آسان ہے۔ (1)
	اور صحیح مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز رحمت ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دُعا کی پھر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ۔ ایک سوال تو یہ تھا کہ’’ میری اُمّت کو قحط عام سے ہلاک نہ فرمائے‘‘ یہ قبول ہوا ۔دوسرا یہ تھا کہ’’ انہیں غرق کرکے عذاب نہ دے‘‘یہ بھی قبول ہوا۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ’’ ان میں باہم جنگ و جدال نہ ہو ‘‘یہ قبول نہیں ہوا ۔ (2)
وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَ ہُوَ الْحَقُّ ؕ قُلۡ لَّسْتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسے جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلایا حالانکہ یہی حق ہے۔ تم فرماؤ، میں تم پر نگہبان نہیں ہوں۔
{ وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ: اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلایا۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کی قوم کے سرکش لوگوں نے اسے یعنی قرآن شریف کو یا نزولِ عذاب کو جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے ۔ تو اے حبیب! صَلَّی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بخاری، کتاب التفسیر، باب قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔۔۔ الخ، ۳/۲۲۱، الحدیث: ۴۶۲۸۔
2…مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض، ص۱۵۴۴، الحدیث: ۲۰(۲۸۹۰)۔