اگر سچے ہو۔ بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو۔بلکہ تم اسی (اللہ) کو پکارو گے تو اگراللہ چاہے تو وہ مصیبت ہٹا دے جس کی طرف تم اسے پکارو گے اور تم شریکوں کو بھول جاؤ گے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکوں سے فرمائیں کہ بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اس وقت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے اُن سے حاجت روائی چاہو گے ؟اگر تم اپنے اس دعویٰ میں کہ معاذ اللہ بت معبود ہیں ، سچے ہو تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے بلکہ تمام ہولناکیوں اور تکلیفوں میں تم اللہ عَزَّوَجَلَّہی کو پکارو گے تو اگراللہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو تم سے وہ مصیبت ہٹادے جس کو دور کرنے کی طرف تم اسے پکارو گے اور اگر وہ چاہے تو اس مصیبت کو دور نہ کرے اور اس وقت تم ان بتوں کو بھول جاؤ گے جنہیں تم خدا عَزَّوَجَلَّ کا شریک قرار دیتے تھے اور جنہیں اپنے اعتقاد ِباطل میں تم معبود جانتے تھے اور اُن کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آسکتے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتارکردیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔