سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرویا صرف ہمارے ساتھ مل کر ہماری تعداد بڑھاؤ جس سے ایک قسم کا دفاع مضبوط ہوگا تو یہ منافق کہنے لگے کہ’’اگر ہم اچھے طریقے سے لڑنا جانتے ‘‘یا کہنے لگے کہ’’ اگر ہم اس لڑائی کو صحیح سمجھتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے ۔ ان منافقین کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ درحقیقت اس دن اپنے ظاہری ایمان کی نسبت کھلے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ یہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں یعنی یہ منہ سے تو یہ کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں لیکن ہم جنگ کر نا نہیں جانتے لیکن دل میں یہ کہتے ہیں کہ’’ کفا ر کو اپنا دشمن نہ بنا ؤ،مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں تباہ ہو جانے دو۔
اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخْوٰنِہِمْ وَقَعَدُوۡا لَوْ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ قُلْ فَادْرَءُوۡا عَنْ اَنۡفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہنا مانتے تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اورخود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ۔ اے حبیب! تم فرمادواگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت دور کر کے دکھادو۔
{ اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخْوٰنِہِمْ: جنہوں نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا ۔ }منافقین نے اُحد میں شہید ہونے والوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے اور ہماری طرح گھر بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے ۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت کو دور کرکے تو دکھاؤ۔ یقینا موت تو بہرحال آکر ہی رہے گی خواہ آدمی گھر میں چھپ کر بیٹھ جائے ،تو یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ’’ اگر لوگ ہماری بات مان کر جہاد میں نہ جاتے تو نہ مارے جاتے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جواللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں