Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
89 - 476
کے خلاف مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے پر اِصرار کیا، پھر وہاں پہنچنے کے بعد تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شدید ممانعت کے باوجود غنیمت کے لئے مرکز کوچھوڑا ۔ یہی بات تمہارے قتل اور نقصان کا سبب بنی ہے۔ مزید اگلی آیت میں فرمایا کہ میدانِ اُحد میں کافروں اور مسلمانوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تھی اور اس لئے پہنچی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان والوں کی پہچان کرادے لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر راضی رہو ۔
وَلِیَعْلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ وَقِیۡلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَوِادْفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّااتَّبَعْنٰکُمْ ؕ ہُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْہُمْ لِلۡاِیۡمٰنِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفْوٰہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ ؕ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اس لئے کہ پہچان کرادے ان کی جو منافق ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہکی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس لئے ( پہنچی) کہ اللہ منافقوں کی پہچان کرادے اور (جب ) ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہکی راہ میں جہاد کرویا دشمنوں سے دفاع کرو تو کہنے لگے: اگر ہم اچھے طریقے سے لڑنا جانتے (یا کہنے لگے کہ اگر ہم اس لڑائی کو صحیح سمجھتے) تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ،یہ لوگ اس دن ظاہری ایمان کی نسبت کھلے کفرکے زیادہ قریب تھے ۔ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں اور اللہ  بہتر جانتا ہے جو باتیں یہ چھپارہے ہیں۔ 
{  وَلِیَعْلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا: اور تاکہ منافقوں کی پہچان کروادے ۔ } غزوہ اُحد میں مسلمانوں کے نقصان اٹھانے کی حکمتوں کو متعدد مقامات پربیان فرمایا گیا ہے جس میں بہت بڑی حکمت مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز ظاہر کرنا تھا چنانچہ یہاں پر بھی فرمایا گیا کہ مسلمان لشکر کو میدانِ اُحد میں اس لئے تکلیف پہنچی تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کومنافقوں کی پہچان کرادے ، کیونکہ منافقوں کی حالت یہ تھی کہ جب جنگِ اُحد شروع ہونے سے پہلیعبداللہبن اُبی وغیرہ منافقوں