Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
82 - 476
والو! تم سب کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں دیر لگایا کرتے ہو اورٹال مٹول کرنا تم لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اس دوران میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں ان کے چہرے پر گھوم رہی تھیں ،انہوں نے جلال بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے فرمایا : اے دشمن خدا ! کیا تم رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ایسی بات اور ایسی حرکت کر رہے ہو!اس خدا کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا،اگر مجھے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا لحاظ نہ ہو تا تو میں ابھی اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر سکون انداز میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف دیکھنے لگے اور مسکرائے ،پھر ارشاد فرمایا’’ہم دونوں کو ا س کے علاوہ چیز کی زیادہ ضرورت تھی کہ تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کا کہتے اور اسے اچھے انداز میں مطالبہ کرنے کا کہتے ۔ اے عمر ! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،تم اسے اس کا حق دے دو اور بیس صاع کھجوریں ا س کے حق سے زیادہ دے دینا ۔ 
	زید بن سعنہ کہتے ہیں :(جب حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے زیادہ کھجوریں دیں ) تو میں نے کہا : اے عمر !  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، مجھے زیادہ کھجوریں کیوں دی جا رہی ہیں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’مجھے رسول اللہ صَلَّیاللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے کہ جو میں نے تمہیں ڈانٹا ا س کے بدلے اتنی کھجوریں تمہیں زیادہ دے دوں۔ میں نے کہا :اے عمر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ جانتے ہیں کہ میں کون ہوں ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’نہیں۔ میں نے کہا :میں یہودیوں کا عالم زید بن سعنہ ہوں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’پھر تم نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، کو جو باتیں کہیں اور ان کے ساتھ جو حرکت کی وہ کیوں کی؟میں نے کہا: میں نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی آپ میں نبوت کی تمام علامات پہچان لی تھیں ، البتہ ان دو علامتوں کو دیکھنا باقی تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حلم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے غضب پر سبقت لے جاتا ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ جتنا زیادہ جہالت کا برتاؤ کیا جائے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حلم اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا ۔ بے شک میں نے یہ علامتیں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں پا لی ہیں ، تو اے عمر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، آپ گواہ ہو جائیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نبی ہونے پر راضی ہوا ۔ میں بہت مالدار ہوں ،آپ گواہ ہو جائیں کہ میں نے اپنا آدھا مال تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت پر صدقہ کر دیا۔پھر حضرت زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ  تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ