Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
81 - 476
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے روئے انور کی زیارت کی تو اسی وقت آپ میں نبوت کی تمام علامات پہچان لیں ،البتہ دو علامتیں ایسی تھیں جن کی مجھے خبر نہ تھی(کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ میں ہیں یا نہیں ) ایک یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حلم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے غضب پر سبقت لے جاتا ہے اور دوسری یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ جتنا زیادہ جہالت کا برتاؤ کیا جائے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حلم اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا ۔ میں موقع کی تلاش میں رہا تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حلم دیکھ سکوں۔ ایک دن نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اپنے حجروں سے باہر تشریف لائے اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھے کہ دیہاتی جیسا ایک شخص اپنی سواری پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی :فلاں قبیلے کی بستی میں رہنے والے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں مبتلا ہیں ،میں نے ان سے کہا کہ اگر تم لوگ اسلام قبول کر لو تو تمہیں کثیر رزق ملے گا۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، مجھے ڈر ہے کہ جس طرح وہ رزق ملنے کی امید پر اسلام میں داخل ہوئے کہیں وہ رزق نہ ملنے کی وجہ سے اسلام سے نکل نہ جائیں۔ اگر ممکن ہو تو ان کی طرف کوئی ایسی چیز بھیج دیں جس سے ان کی مدد ہو جائے۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس شخص کی طرف دیکھا اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دکھایا تو انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، اس میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے قریب ہوا اور کہا:اے محمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ) کیاآپ ایک مقررہ مدت تک فلاں قبیلے کے باغ کی معین مقدار میں کھجوریں مجھے بیچ سکتے ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے یہودی !ایسے نہیں ، میں ایک مقررہ مدت تک اور مُعَیَّن مقدار میں کھجوریں تمہیں بیچوں گا لیکن کسی باغ کو خاص نہیں کروں گا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نے کہا ٹھیک ہے۔ چنانچہ میں نے ایک مقررہ مدت تک معین مقدار میں کھجوروں کے بدلے 80مثقال سونا حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو دے دیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے وہ سونا اس شخص کو دے کر فرمایا ’’یہ سونا ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو اورا س کے ذریعے ان کی مدد کرو ۔ 
	زید بن سعنہ کہتے ہیں ،جب وہ مدت پوری ہونے میں دویا تین دن رہ گئے تو میں نے مسجد میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا دامنِ اقدس پکڑ کر تیز نگاہ سے دیکھتے ہوئے یوں کہا: اے محمد! میرا حق ادا کرو ۔ اے عبدالمطلب کے خاندان