کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی پھر دوسری مرتبہ ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے تب ہوئے جب انہوں نے فرشتوں کے نزول اور رویَتِ باری تعالیٰ کا مطالبہ کیا۔
(3)… دو مرتبہ بصیرت کے اندھے اور بہرے ہونے کی تفسیر سورۂ بنی اسرائیل کی 4سے لے کر7تک وہ آیات ہیں جن میں یہ خبر دی گئی کہ یہودی دو مرتبہ زمین میں فساد کریں گے۔ (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۷۱، ۴/۴۰۷)
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ ؕ وَقَالَ الْمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمْ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیۡہِ الْجَنَّۃَ وَمَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے اور مسیح نے تو یہ کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب اور تمہارا رب بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا: اے بنی اسرائیل !اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
{ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا:بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا۔} عیسائیوں کے بہت سے فرقے ہیں :ان میں سے یعقوبیہ اور ملکانیہ کہتے تھے کہ مریم نے اِلٰہ یعنی معبود کوجنا اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ الٰہ یعنی معبود نے عیسیٰ کی ذات میں حُلول کرلیا اور وہ اُن کے ساتھ مُتَّحِد ہوگیا تو عیسیٰ الٰہ (معبود) ہو گئے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۷۲، ۱/۵۱۴)
مَعَاذَ اللہ ثُمَّ مَعَاذَاللہ۔ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بھی توہین کی