Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
472 - 476
وَحَسِبُوۡۤا اَ لَّا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللہُ عَلَیۡہِمْ ثُمَّ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ ؕ وَ اللہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اس گمان میں رہے کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ انہیں کوئی سزا نہ ہوگی تو یہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔
{وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ: اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ (انہیں اس پر) کوئی سزا نہ ہوگی۔} یہودو نصاریٰ اتنے سنگین جَرائم کیمُرتَکِب ہوئے کہ دونوں نے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلایا اور بطورِ خاص یہودیوں نے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید بھی کیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ گمان کیا کہ ایسے شدید جرموں پر بھی انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا تو یہ اندھے اور بہرے ہوگئے یعنی حق دیکھنے سے اندھے اور حق سننے سے بہرے ہوگئے اور ویسے بھی وہ عقل و شعور سے اندھے بہرے تھے کہ ایسے جرائم کے باوجود بھی خود کو سزا سے محفوظ سمجھتے رہے۔ پھر جب اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد توبہ کی تواللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی لیکن پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اسی سابقہ روش پر چل پڑے۔ دو مرتبہ اندھاا ور بہرہ ہونے سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :
(1)…یہودی حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے میں عقل کے اعتبار سے اندھے اور بہرے ہوگئے پھر ان میں سے بعض کی توبہ اللہ  تعالیٰ نے قبول فرمائی کہ انہیں انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کی توفیق دی ۔پھر نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے زمانہ ٔمبارکہ میں ان کی نبوت و رسالت کا انکار کر کے بہت سے یہودی دل کے اندھے اور بہرے ہو گئے۔
(2)… پہلی مرتبہ تب دل کے اندھے اور بہرے ہوئے جب انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی پھر اس سے انہوں نے توبہ