اپنے قریب محارم سے،جیسے ماں باپ اولاد بہن بھائی نہ چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹے کہ یہ محارم نہیں اگرچہ عرفاً انہیں بھی بھائی کہیں۔ محارم سے مطلقاً اجازت ظاہر عبارت قدوری پر ہے ورنہ امام سغناقی نے نہایہ پھر امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اسے بھی صورت دوم ہی میں داخل فرمایا کہ محارم سے بھی ہدیہ ودعوت کا قبول اسی شرط سے مشروط کہ پیش از حصولِ منصب بھی وہ ا س کے ساتھ یہ برتاؤ برتتے ہوں مگر یہ کہ اسے یہ منصب ملنے سے پہلے وہ فقراتھے اب صاحبِ مال ہوگئے کہ اس تقدیر پر پیش ازمنصب عدمِ ہدیہ ودعوت بربنائے فقر سمجھا جائے گا اور فی الواقع اظہر من حیث الدلیل یہی نظر آتا ہے کہ جب باوصف قدرت پیش از منصب عدم یا قلت وبعد منصب شروع باکثرت بربنائے منصب ہی سمجھی جائے گی اس تقدیر پر صرف دو ہی صورتیں مستثنیٰ رہیں پھر بہرحال جو صورت مستثنیٰ ہوگی وہ اسی حال میں حکم جوا ز پاسکتی ہے جب اس وقت اس شخص کا کوئی کام اس سے متعلق نہیں ورنہ خاص کام پڑنے غرض متعلق ہونے کے وقت اصلاً اجازت نہیں خواہ وہ افسر ہو یا بھائی یا پہلے سے ہدیہ وغیرہا دینے والا بلکہ ایسے وقت عام دعوت میں شریک ہونا بھی نہ چاہئے نہ کہ خاص، پھر جہاں جہاں ممانعت ہے اس کی بنا صرف تہمت و اندیشہ رعایت پر ہے حقیقۃً وجود رعایت ضرور نہیں کہ اس کاا پنے عمل میں کچھ تغیر نہ کرنا یا اس کا اس کی عادت بے لوثی سے آگاہ ہونا مفید جواز ہوسکے۔ دنیا کے کام امید ہی پر چلتے ہیں ، جب یہ دعوت و ہدایا قبول کیا کرے گا تو ضرور خیال جائے گا کہ شاید اب کی بار کچھ اثر پڑے کہ مفت مال دینے کی تاثیر مجرب ومشاہد ہے اس بار نہ ہوئی اس بار ہوگی، اس بار نہ ہوئی پھر کبھی ہوگی، اور یہ حیلہ کہ اس کا ہدیہ و دعوت بربنائے اخلاق انسانیت ہے نہ بلحاظ منصب، اس کا رد خود حضورِ اقدس سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ فرماچکے ہیں ، جب ایک صاحب کو تحصیل زکوٰۃ پر مقرر فرما کر بھیجا تھا انہوں نے اموالِ زکوٰۃ حاضر کئے اور کچھ مال جدا رکھے کہ یہ مجھے ملے ہیں فرمایا اپنی ماں کے گھر بیٹھ کر دیکھا ہوتا کہ اب کتنے تحفے ملتے ہیں یعنی یہ ہدایا صرف اسی منصب کی بنا پر ہیں اگر گھر بیٹھا ہوتا تو کون آکر دے جاتا، اس مسئلہ کی تفاصیل میں اگرچہ کلام بہت طویل ہے مگر یہاں جو کچھ مذکور ہوابعونہ تعالیٰ خلاصہ تنقیح وصالح تحویل ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۸/۱۷۰-۱۷۱)
{ فَاِنۡ جَآءُوۡکَ: تو اگر وہ تمہارے پاس آئیں۔} یہاں سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کواختیار دیا گیا کہ اہلِ کتاب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لائیں تو آپ کو اختیار ہے فیصلہ فرمائیں یا نہ فرمائیں۔
وَکَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ وَعِنۡدَہُمُ التَّوْرٰىۃُ فِیۡہَا حُکْمُ اللہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنۡۢ