Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
436 - 476
رشوت سے حاصل کئے ہوئے مال کا شرعی حکم:
	جس نے کوئی مال رشوت سے حاصل کیا ہو تو اس پر فرض ہے کہ جس جس سے وہ مال لیا انہیں واپس کر دے، اگر وہ لوگ زندہ نہ رہے ہوں توان کے وارثوں کو وہ مال دیدے، اگر دینے والوں کا یا ان کے وارثوں کا پتا نہ چلے تو وہ مال فقیروں پر صدقہ کر دے ۔ خرید و فروخت وغیرہ میں ا س مال کو لگانا حرامِ قطعی ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ مالِ رشوت کے وبال سے سبکدوش ہونے کانہیں ہے۔ 				     (فتاوی رضویہ، ۲۳/۵۵۱، ملخصاً)
	یہاں چونکہ رشوت پر کچھ تفصیلی کلام کیا ہے لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے کچھ مزید فقہی وضاحت کردی جائے چونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رشوت شاید وہی ہے جو سرکاری محکموں میں دی جاتی ہے یا جو غلط کام کروانے کیلئے دی جاتی ہے یا جو رشوت کا نام لے کر دی جائے حالانکہ مذکورہ بالا صورتیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں رشوت میں ہی داخل ہیں خواہ رشوت کا نام لیا جائے یا نہیں۔ ایک آدھ صورت مُسْتَثنیٰ ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔ رشوت کے بارے میں اسی طرح کی غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے یہاں فتاویٰ رضویہ سے ایک اہم فتویٰ نقل کیا جاتا ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جو شخص بذاتِ خود خواہ از جانب حاکم کسی طرح کا قَہر وتَسلُّط (دوسروں پر اختیار) رکھتا ہو جس کے سبب لوگوں پر اس کا کچھ بھی دباؤ ہواگرچہ وہ فی نَفسہ ان پر جَبر وتعدی نہ کرے دباؤ نہ ڈالے اگرچہ وہ کسی فیصلہ قطعی بلکہ غیر قطعی کا بھی مجاز نہ ہو جیسے کو توال، تھانہ دار، جمعدار یا دہقانیوں کے لئے زمیندار مقدم پٹواری یہاں تک کہ پنچایتی قوموں یا پیشوں کے لئے ان کا چودھری، ان سب کو کسی قسم کے تحفہ لینے یا دعوتِ خاصہ (یعنی وہ دعوت کہ خاص اسی کی غرض سے کی گئی ہو کہ اگر یہ شریک نہ ہو تو دعوت ہی نہ ہو) قبول کرنے کی اصلاً اجازت نہیں مگر تین صورتوں میں ، اول اپنے افسر سے جس پر اس کا دباؤ نہیں ، نہ وہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ ہدیہ ودعوت اپنے معاملات میں رعایت کرانے کے لئے ہے۔ دوم ایسے شخص سے جو اس کے اس منصب سے پہلے بھی اسے ہدیہ دیتا یا دعوت کرتا تھا بشرطیکہ اب سے اسی مقدار پر ہے ورنہ زیادت روا (جائز) نہ ہوگی مثلاً پہلے ہدیہ ودعوت میں جس قیمت کی چیز ہوتی تھی اب اس سے گراں قیمت (زیادہ قیمتی)، پر تکلف ہوتی ہے یا تعداد میں بڑھ گئی یا جلد جلد ہونے لگی کہ ان سب صورتوں میں زیادت موجود اور جواز مفقود، مگر جبکہ اس شخص کا مال پہلے سے اس زیادت کے مناسب زائد ہوگیا ہو جس سے سمجھا جائے کہ یہ زیادت اس شخص کے منصب کے سبب نہیں بلکہ اپنی ثروت بڑھنے کے باعث ہے۔ سوم