Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
423 - 476
اسلامی سزاؤں کی حکمت:
	 اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔ 
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَقْدِرُوۡا عَلَیۡہِمْ ۚ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر وہ کہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔ 
 { اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا:مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی۔} گرفتاری سے پہلے اگر ڈاکو توبہ اور ا س کے تقاضے پورے کر لے تو ڈاکہ زنی کی سزا اورآخرت کی رسوائی سے بچ جائے گا لیکن لوٹے ہوئے مال کی واپسی اور قصاص کا تعلق چونکہ بندوں کے حقوق سے ہے اس لئے ان کا تقاضا باقی رہے گا۔ اب اس کے اولیاء چاہیں تومعاف کر دیں ، چاہیں تو اس کا تقاضا کر لیں۔ 
(تفسیرات احمدیہ، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۳۵۲)