ڈاکو کی سز اکی شرائط:
اس آیتِ کریمہ میں راہزن یعنی ڈاکو کی سز اکا بیان ہے۔ راہزن جس کے لئے شریعت کی جانب سے سزا مقرر ہے اس میں چند شرطیں ہیں :
(1)… ان میں اتنی طاقت ہو کہ راہ گیر ان کا مقابلہ نہ کرسکیں اب چاہے ہتھیار کے ساتھ ڈاکہ ڈالا یا لاٹھی لے کر یا پتھر وغیرہ سے۔
(2)… بیرونِ شہر راہزنی کی ہو یا شہر میں رات کے وقت ہتھیار سے ڈاکہ ڈالا۔
(3)… دارُ الاسلام میں ہو۔
(4)… چوری کی سب شرائط پائی جائیں۔
(5)… توبہ کرنے اور مال واپس کرنے سے پہلے بادشاہِ اسلام نے ان کو گرفتار کرلیا ہو۔
(عالمگیری، کتاب السرقۃ، الباب الرابع فی قطاع الطریق، ۲/۱۸۶)
ڈاکو کی 4سزائیں :
جن میں یہ سب شرطیں پائی جائیں ان کے لئے قرآنِ پاک میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں
(1)…انہیں قتل کر دیا جائے۔
(2)…سولی چڑھا دیا جائے۔
(3)…دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔
(4)… جلا وطن کر دیا جائے، ہمارے ہاں اس سے مراد قید کر لینا ہے۔
اس سزا کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ڈاکوؤں نے کسی مسلمان یا ذمی کو قتل کیا اور مال نہ لیا تو انہیں قتل کیا جائے ۔ اگر قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا تو بادشاہِ اسلام کو اختیار ہے کہ ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کر ڈالے یا سولی دیدے یاہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کرے پھر اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دے یا صرف قتل کردے یا قتل کرکے سولی پر چڑھا دے یا فقط سولی دیدے۔ اگر قتل نہیں کیا صرف مال لوٹا تو ان کا دایاں ہاتھ ا ور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر نہ مال لوٹا نہ قتل کیا صرف ڈرایا دھمکایا تو اس صورت میں انہیں قید کر لیا جائے یہاں تک کے صحیح توبہ کر لے ۔ (عالمگیری، کتاب السرقۃ، الباب الرابع فی قطاع الطریق، ۲/۱۸۶، در مختار، کتاب السرقۃ، باب قطع الطریق، ۶/۱۸۱-۱۸۳، ملخصاً)