’’کسی مومن کوقتل کرنے میں اگر زمین وآسمان والے شریک ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں دھکیل دے ۔
(ترمذی، کتاب الدیات، باب الحکم دی الدمائ، ۳/۱۰۰، الحدیث: ۱۴۰۳)
(2)…حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلماً قتل سے زیاد سہل ہے۔
(ابن ماجہ، کتاب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً، ۳/۲۶۱، الحدیث: ۲۶۱۹)
امن و سلامتی کا مذہب:
یہ آیت ِ مبارکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کس قدر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسلام کی نظر میں انسانی جان کی کس قدر اہمیت ہے۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو اسلام کی اصل تعلیمات کو پس پُشت ڈال کر دامنِ اسلام پر قتل و غارت گری کے حامی ہونے کا بد نما دھبا لگاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو مسلمان کہلا کر بے قصور لوگوں کو بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے موت کی نیند سلا کر یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت سر انجام دے دی۔
قتل کی جائز صورتیں :
قتل کی شدید ممانعت کے ساتھ چند صورتوں کو اس سے جدا رکھا ہے اورآیتِ مبارکہ میں بیان کردہ وہ صورتیں یہ ہیں :
(1)…قاتل کو قصاص میں قتل کرنا جائز ہے۔
(2)…زمین میں فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا جائز ہے اس کی تفصیل اگلی آیت میں موجودہے۔
اس کے علاوہ مزید چند صورتوں میں شریعت نے قتل کی اجازت دی ہے۔
(1)شادی شدہ مرد یا عورت کو زنا کرنے پر بطورِ حد رجم کرنا، (2) مرتد کو قتل کرنا۔ (3) باغی کو قتل کرنا۔
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوْ یُصَلَّبُوۡۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ مِّنْ خِلٰفٍ اَوْ یُنۡفَوْا مِنَ الۡاَرْضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ