Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
419 - 476
 نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنْہُمۡ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرْضِ لَمُسْرِفُوۡنَ ﴿۳۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کے سبب ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد (بھی) زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔
{ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ:اس کے سبب ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا۔} بنی اسرائیل کو یہ فرمایا گیا اور یہی فرمان ہمارے لئے بھی ہے کیونکہ گزشتہ امتوں کے جو احکام بغیر تردید کے ہم تک پہنچے ہیں وہ ہمارے لئے بھی ہیں۔ بہرحال بنی اسرائیل پر لکھ دیا گیا کہ جس نے بلا اجازتِ شرعی کسی کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حق، بندوں کے حق اور حدودِ شریعت سب کو پامال کردیا اور جس نے کسی کی زندگی بچا لی جیسے کسی کو قتل ہونے یا ڈوبنے یا جلنے یا بھوک سے مرنے وغیرہ اَسباب ِہلاکت سے بچالیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو بچالیا۔
قتل ناحق کی 2 وعیدیں :
(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا