Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
369 - 476
وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ۚ وَہُوَ یَرِثُہَاۤ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہَا وَلَدٌ ؕ فَاِنۡ کَانَتَا اثْنَتَیۡنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَکَ ؕ وَ اِنۡ کَانُوۡۤا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ  تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ  تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کسی مرد کا انتقال ہو جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی (حصہ ہوگا) اور اگر بھائی بہن ہوں (جن میں ) مرد بھی (ہوں ) اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے تاکہ تم بھٹک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔
{ یَسْتَفْتُوۡنَکَ: تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔} آیتِ مبارکہ میں کَلَالَہ کی وراثت کا بیان کیا گیا ہے۔ کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے، نہ اولاد۔ اس آیت کے شانِ نزول کے متعلق بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار تھے تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ  حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ