ترجمۂکنزُالعِرفان:تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے تو (اللہ) انہیں ان کے پورے اجر عطا فرمائے گا اور انہیں اپنے فضل سے اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور وہ اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار۔
{ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا: تو جو ایمان والے ہیں۔} یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندگی کو اپنا اعزاز اوراپنے سر کا تاج سمجھنے والوں یعنی مومنین صالحین کو بشارت اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی بندگی سے نفرت و تکبر کرنے والوں کو وعید بیان کی گئی ہے۔ پہلے گروہ کو بھر پور اجر ملے گا اور اس کے ساتھ ان پرفضل الٰہی کی مزید بارش برسے گی جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دیدار بھی شامل ہے۔ اس کے برعکس عبادت ِ الٰہی کے منکروں اور اس سے تکبر کرنے والوں کو دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمۡ بُرْہٰنٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَاَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکُمْ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے لوگو بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نورنازل کیا۔
{ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ: اے لوگو!۔} یہاں تمام انسانوں سے خطاب ہے ، وہ کہیں کے ہوں اورکبھی بھی ہوں۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شان کا بیان:
اس سے معلوم ہوا کہ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کسی زمانے، کسی جگہ اور کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں۔ عام اعلان فرما دیا گیا، اے لوگو! تمہارے پاس وہ تشریف لائے جو سرتاپا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کی دلیل ہیں جن کی صداقت پر اُن کے معجزے گواہ ہیں اور وہ منکرین کی عقلوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ جس قدر معجزے پہلے پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملے ان سے زائد حضور سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو عطا ہوئے ۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ از سر تا قدمِ پاک خود اللہ تعالیٰ کی وَحدانِیَّت اور ذات وصِفات کی دلیل ہیں چنانچہ