وَمَنۡ یَّسْتَنۡکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہرگز مسیح اللہکا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نہ تومسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ عارکرتا ہے اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے توعنقریب وہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔
{ لَنۡ یَّسْتَنۡکِفَ الْمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبْدًا لِّلہِ:مسیح اللہ کا بندہ بننے سے ہر گز عار نہیں کرتا ۔} نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے کہا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو عیب لگاتے ہیں کہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ َ کا بندہ کہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری (بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۲/۲۸۴)
جس میں فرمایا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہونا باعثِ فخر ہے نہ کہ باعثِ شرم۔ نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت سے نفرت کرنا اور اس میں شرم محسوس کرنا کافر کا کام ہے مسلمان کا نہیں۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمْ اُجُوۡرَہُمْ وَیَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ ۚ وَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسْتَنۡکَفُوۡا وَاسْتَکْبَرُوۡا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّلَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار۔