Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
333 - 476
بری صحبت کی مذمت:
 	اس آیت سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو فلموں ، ڈراموں ، گانوں ،تھیٹروں ، دوستوں کی گپوں اور بدمذہبوں کی صحبتوں میں دین کا مذاق اڑتا ہوا دیکھتے ہیں اور پھر بھی وہاں بیٹھتے رہتے ہیں بلکہ مَعَاذَاللہان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے ہیں۔ بری صحبت کے بارے میں احادیث بکثرت ہیں۔ ان میں سے 5 احادیث درج ذیل ہیں 
(1)…رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’برے ساتھی سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچانا جائے گا (یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں۔)
(ابن عساکر، الحسین بن جعفر بن محمد بن حمدان۔۔۔ الخ، ۱۴/۴۶)
(2)…حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: نیک اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک کے پاس مشک ہے اور دوسرا دھونکنی دھونک رہا ہے مشک والا یا تو تجھے مشک ویسے ہی دے گا یاتو اس سے خرید لے گا، اور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتو اس سے بدبوپائے گا۔	        (بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار وبیع المسک، ۲/۲۰، الحدیث: ۲۱۰۱)
(3)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو کسی بد مذہب کوسلام کرے یا اس سے بکشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اس سے پیش آئے جس میں اس کا دل خوش ہو تواس نے اس چیز کی تحقیر کی جو اللہ تعالیٰ نے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر اتاری۔
(تاریخ بغداد، ۵۳۷۸- عبد الرحمن بن نافع، ابوزیاد المخرّمی۔۔۔ الخ، ۱۰/۲۶۲)
	حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا: ’’تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔
(صحیح مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحمّلہا، ص۹، الحدیث: ۷(۷))
(4)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔ 
(ترمذی، کتاب الزہد، ۴۵-باب، ۴/۱۶۷، الحدیث: ۲۳۸۵) 
مولانا معنوی قدّس سرّہ فرماتے ہیں :
		صحبت صالح تُرا صالح کُنَد			صحبت طالح تُرا طالح کند