Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
332 - 476
ترجمۂکنزالایمان: اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہکافروں اورمنافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرماچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ  کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ۔ 
{ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیۡکُمْ فِی الْکِتٰبِ: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرماچکا ہے۔} اِس آیتِ مبارکہ میں واضح طور پر فرما دیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جب وہ اِس خبیث فعل میں مصروف ہوں تو ان کے پاس نہ بیٹھو بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسی جگہ پر جاؤ ہی نہیں اور اگر جانا پڑجائے تو جب ہاتھ سے روکنا ممکن ہو تو ہاتھ سے روکو اور اگر زبان سے روک سکتے ہو تو زبان سے روکو اور اگر یہ بھی نہ کرسکو تو دل میں اس حرکت سے نفرت کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جاؤ اور ان کی ہم نشینی ہرگز اختیار نہ کرو کیونکہ جب قرآن، شریعت یا دین کا مذاق اڑایا جارہا ہو اور اس کے باوجود کوئی آدمی وہاں بیٹھا رہے تو یاتو یہ خود اِس فعل میں مبتلا ہوجائے گا یا ان کی صحبت کی نحوست سے متاثر ہوگا یا کم از کم اتناتو ثابت ہوہی جائے گا کہ اِس شخص کے دل میں بھی دین کی قدر و قیمت نہیں ہے کیونکہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، قرآنِ مجید اور دین مبین سے محبت ہوتی تو جہاں اِن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہاں ہرگز نہ بیٹھتا کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ جہاں آدمی کے پیارے کو برا کہا جائے وہاں وہ نہیں بیٹھتا جیسے کسی کے ماں باپ کو جس جگہ گالی دی جائے وہاں بیٹھنا آدمی برداشت نہیں کرسکتا۔ تو جب ماں باپ کی توہین اور گالی والی جگہ پر بیٹھناآدمی کو گوارا نہیں تو جہاں اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور قرآن و دین کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہاں کوئی مسلمان کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ کیا مَعَاذَاللہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی قدر ماں باپ کے بھی برابر نہیں ہے۔