دل لالچ کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں :
میاں بیوی کے اعتبار سے بھی اور اس سے ہٹ کر بھی معاملہ یہ ہے کہ دل لالچ کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں ، ہر ایک اپنی راحت و آسائش چاہتا ہے اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کرکے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔ لہٰذا جو شخص دوسرے کی راحت کو مقدم رکھتا ہے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو سکون پہنچاتا ہے وہ بہت باہمت ہے، اسی طرح کی چیزوں کے بارے میں قرآنِ مجیدمیں فرمایا:
وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۹﴾ (سورۂ حشر:۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
اورارشاد فرمایا:
لَتُبْلَوُنَّ فِیۡۤ اَمْوٰلِکُمْ وَاَنۡفُسِکُمْ ۟ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾ (ال عمران:۱۸۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے ۔
اور ارشاد فرمایا:
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدٰوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾ وَمَا یُلَقّٰىہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَمَا یُلَقّٰىہَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾ (سورۂ حم السجدہ۳۴،۳۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا ۔
حدیث شریف میں ہے، حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو تم سے قَطع تعلق کرے تم اس سے رشتہ جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے تم اس سے درگزر کرو۔ (شعب الایمان، السادس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶/۲۲۲، الحدیث: ۷۹۵۷)