Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
321 - 476
اَنۡ یُّصْلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلْحًا ؕ وَالصُّلْحُ خَیۡرٌ ؕ وَاُحْضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنۡ تُحْسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۲۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہے اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہترہے اور دل کو لالچ کے قریب کردیا گیا ہے۔ اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
{ وَ اِنِ امْرَاَ ۃٌ خَافَتْ مِنۡۢ بَعْلِہَا نُشُوۡزًا: اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی کا اندیشہ ہو۔} قرآن نے گھریلو زندگی اور معاشرتی برائیوں کی اصلاح پر بہت زور دیا ہے اسی لئے جو گناہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اور جو چیزیں خاندانی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں اور خرابیوں کو جنم دیتی ہیں ان کی قرآن میں بار بار اصلاح فرمائی گئی ہے جیسا کہ یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو، زیادتی تو اس طرح کہ شوہر اس سے علیحدہ رہے، کھانے پہننے کو نہ دے یا اس میں کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اِعراض یعنی منہ پھیرنایہ کہ بیوی سے محبت نہ رکھے، بول چال ترک کردے یا کم کردے۔تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں اِفہام و تفہیم سے صلح کرلیں جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عورت شوہر سے اپنے مُطالبات کچھ کم کردے اور اپنے کچھ حقوق کا بوجھ کم کردے اور شوہر یوں کرے کہ باوجود رغبت کم ہونے کے اس بیوی سے اچھا برتاؤ بَہ تکلف کرے۔ یہ نہیں کہ عورت ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ مردو عورت کا یوں آپس میں صلح کرلینا زیادتی کرنے اور جدائی ہوجانے دونوں سے بہتر ہے کیونکہ طلاق اگرچہ بعض صورتوں میں جائز ہے مگراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نہایت ناپسندیدہ چیز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسند چیز طلاق دینا ہے۔ 			   					(ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب کراہیۃ الطلاق، ۲/۳۷۰، الحدیث: ۲۱۷۸)