Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
299 - 476
 رات کے وقت اٹھ کر اپنے ماموں حضرت محمد بن سوار رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو نماز پڑھتے دیکھتا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ہے؟ میں نے پوچھا :میں اسے کس طرح یاد کر وں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: جب لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو:
’’اللہُ مَعِیَ، اللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ، اللہُ شَاہِدٌ‘‘
اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے دیکھ رہا ہے، اللہ تعالیٰ میرا گواہ ہے۔
	(حضرت سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ) میں نے چند راتیں یہ کلمات پڑھے اور پھر ان کو بتایا، انہوں نے فرمایا: ہر رات سات مرتبہ یہ کلمات پڑھو، میں نے ایسا ہی کیا اور پھر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ہر رات گیارہ مرتبہ یہ کلمات پڑھو۔ میں نے اسی طرح پڑھا تو مجھے اپنے دل میں اس کی لذّت معلوم ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں نے کہا: میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اور قبر میں جانے تک ہمیشہ پڑھنا، یہ تمہیں دنیا و آخرت میں نفع دے گا۔ میں نے کئی سال تک ایسا کیا تو میں نے اپنے اندر اس کا مزہ پایا، پھر ایک دن میرے ماموں نے فرمایا: اے سہل! اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اور ا س کا گواہ ہو ،کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے؟ تم اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔  (احیاء العلوم، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق۔۔۔ الخ، بیان الطریق فی ریاضۃ الصبیان۔۔۔ الخ، ۳/۹۱) 
ہٰۤاَنۡتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۟ فَمَنۡ یُّجٰدِلُ اللہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمۡ مَّنۡ یَّکُوۡنُ عَلَیۡہِمْ وَکِیۡلًا ﴿۱۰۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: سنتے ہو یہ جو تم ہو دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے لوگو!) سن لو، یہ تم ہی ہو جودنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے تو قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گایا کون ان کا کارساز ہوگا؟