Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
298 - 476
یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے۔
یَّسْتَخْفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوۡنَ مِنَ اللہِ وَہُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوۡنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ؕ وَکَانَ اللہُ بِمَا یَعْمَلُوۡنَ مُحِیۡطًا ﴿۱۰۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے اور اللہ ان کے پاس ہے جب دل میں وہ بات تجویزتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ لوگوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے حالانکہ اللہ  اُس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو ایسی بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ  کو پسند نہیں اور اللہ  ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے۔ 
{ یَسْتَخْفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ:وہ لوگوں سے شرماتے ہیں۔} یعنی طعمہ اور ا س کی قوم کے افراد لوگوں سے حیا کرنے کی بنا پر اور ان کی طرف سے نقصان پہنچنے کے ڈر سے اُن سے تو شرماتے اور چھپتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے اور اس کے عذاب سے ڈرا جائے کیونکہ وہ ان کے احوال کو جانتا ہے اور اس سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں حتی کہ وہ ان کے ا س عمل سے بھی واقف ہے جب وہ اپنے دل میں ایسی بات تجویز کرتے ہیں اور رات میں ایسی بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کوپسند نہیں جیسے بے گناہ پر الزام لگانا، جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا، اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام ظاہری و باطنی تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ان کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں۔ (جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۹۷، ص۸۶، روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲/۲۷۹-۲۸۰، ملتقطاً)
 تقویٰ و طہارت کی بنیاد :
	 یہ آیتِ مبارکہ تقویٰ و طہارت کی بنیاد ہے۔ اگر انسان یہ خیال رکھے کہ میرا کوئی حال اللہ عَزَّوَجَلَّسے چھپا ہوا نہیں تو گناہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔ قرآنِ پاک میں جگہ جگہ اسی چیز کے ذریعے لوگوں کو گناہوں سے رکنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  دیکھ رہا ہے۔ اس جملے کا اگر کوئی شخص مراقبہ کرلے اور اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھالے تو گناہوں کا علاج نہایت آسان ہوجائے گا۔ حضرت سہل بنعبداللہ  تستری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں تین سال کی عمر کا تھا کہ