Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
282 - 476
عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ بات اچھی لگی تو عرض کرنے لگے :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،اس بات کو دوبارہ ارشاد فرمائیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے دوبارہ اسی طرح فرمایا، پھر ارشاد فرمایا ’’ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کے سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، وہ درجہ کس چیز سے ملتا ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے،اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے۔ 
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب بیان ما اعدّ  اللہ تعالی للمجاہد فی الجنّۃ من الدرجات، ص۱۰۴۵، الحدیث: ۱۱۶(۱۸۸۴))
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے اور اس کا گھر سے نکلنا صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس کے دین کی تصدیق کی خاطر ہو تواللہ تعالیٰ اس کے لئے اس بات کا ضامن ہو جاتا ہے کہ (اگر وہ شہید ہو گیا تو) اس کو جنت میں داخل کرے گا یااجر اور غنیمت کے ساتھ ا س کو ا س کے مَسکَن میں واپس کر دے گا جہاں سے وہ روانہ ہو اتھا۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الجہاد والخروج  فی سبیل اللہ، ص۱۰۴۲، الحدیث: ۱۰۴(۱۸۷۶))
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنْفُسِہِمْ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمْ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وٰسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جن کی جان فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ان سے (فرشتے) کہتے ہیں : تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے ۔ تو فرشتے کہتے ہیں : کیا اللہکی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ تویہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔