Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
281 - 476
ہے جو روزے دار ہو، قیام کرنے والا ہو، اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر عمل کرنے والا ہو، روزے اور نماز سے تھکتا یا اُکتاتا نہ ہو ۔ 
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ تعالی، ص۱۰۴۴، الحدیث: ۱۱۰(۱۸۷۸))
(3)…حضرت خُریم بن فاتک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کے لئے سات سوگناثواب لکھا جاتا ہے۔ 
(ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل النفقۃ فی سبیل اللہ، ۳/۲۳۳، الحدیث: ۱۶۳۱) 
(4)…حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی راہ میں (نکل کر) ذکر کرنے کا ثواب مال خرچ کرنے سے سات لاکھ گُنا زیادہ ہے۔ 
(مسند امام احمد، مسند المکیین، حدیث معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ تعالی عنہ، ۵/۳۱۴، الحدیث: ۱۵۶۴۷) 
دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَمَغْفِرَۃً وَّرَحْمَۃً ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۹۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:  اس کی طرف سے بہت سے درجات اور بخشش اور رحمت ( ہے) اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 
{ دَرَجٰتٍ مِّنْہُ: اس کی طرف سے بہت سے درجات۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کا اجر بیان فرمایا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کے بہت سے درجات، ان کے گناہوں کی بخشش اور جنت کی نعمتیں ہے اور اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کو بخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔	   (تفسیر سمرقندی، النساء، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱/۳۸۰)
جنت میں مجاہدین کے درجات اور مجاہدین کی بخشش:
	احادیث میں مجاہدین کے جنتی درجات کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے ،چنانچہ اس سے متعلق 3احادیث درج ذیل ہیں 
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے جنت میں سو درجے مہیا فرمائے، ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ 
(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۲/۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰)
(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو سعید! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی