Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
279 - 476
{ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبْلُ:پہلے تم بھی ایسے ہی تھے۔ } مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے مزید فرمایا کہ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے یعنی جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تو تمہاری زبان سے کلمہ شہادت سن کر تمہارے جان و مال محفوظ کر دیئے گئے تھے اور تمہارا اظہارِ ایمان بے اعتبار نہ قرار دیا گیا تھا ایسا ہی اسلام میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تمہیں بھی سلوک کرنا چاہئے اور یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ تمہیں اِسلام پر اِستِقامت بخشی اور تمہارا مؤمن ہونا مشہور کیا، لہٰذا خوب تحقیق کرلیا کرو کہ کہیں تمہارے ہاتھوں کوئی ایمان دار قتل نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ جو مسلمان کافروں میں رہتا ہو اور اس کے ایمان کی مسلمانوں کو خبر نہ ہو تو اس کے قتل سے نہ کفارہ واجب ہو گا اورنہ دیت۔ یاد رہے کہ پچھلی آیت میں وہ صورت مذکور ہوئی جہاں مسلمان کا اسلام سب کو معلوم ہو مگر اندھیرے وغیرہ کی وجہ سے پتہ نہ لگے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے اور اس آیت میں وہ صورت بیان ہوئی ہے جس میں مسلمان کا ایمان کسی کو معلوم نہیں۔ لہٰذا ان دونوں آیات میں تَعارُض نہیں۔
لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوۡنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِاَمْوٰلِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ ؕ فَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمْوٰلِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الْقٰعِدِیۡنَ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہِ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں کوبیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: عذر والوں کے علاوہ جو مسلمان جہاد سے بیٹھے رہے وہ اوراللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں۔ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر اللہ نے درجے کے اعتبار سے فضیلت عطا فرمائی ہے اوراللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اوراللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔