ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہتیری غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھراللہ نے تم پر احسان کیا تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں چلو تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ تم دنیوی زندگی کا سامان چاہتے ہو پس اللہ کے پاس بہت سے غنیمت کے مال ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تواللہ نے تم پر احسان کیا تو خوب تحقیق کرلو بیشک اللہ تمام اعمال سے خبردار ہے۔
{ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَتَبَیَّنُوۡا: جب تم اللہ کے راستے میں چلو تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔}اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ مِرْدَاس بن َنہِیْک جو فدک کے رہنے والے تھے اور اُن کے سوا اُن کی قوم کاکوئی شخص اسلام نہ لایا تھا، اس قوم کو خبر ملی کہ لشکرِ اسلام ان کی طرف آرہا ہے تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مِرْدَاس ٹھہرے رہے۔ جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تواس خیال سے کہ کہیں کوئی غیر مسلم جماعت نہ ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے ۔جب لشکر آیا اور انہوں نے اللہُ اکْبَر کے نعروں کی آوازیں سنیں تو یہ خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے: لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ، السّلام علیکم۔ مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہلِ فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص دھوکہ دینے کے لیے ایمان کا اظہار کررہا ہے۔ اس خیال سے حضرت اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کو قتل کردیا اور بکریاں لے آئے۔ جب تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے حضور میں حاضر ہوکر تمام ماجرا عرض کیا تو حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کے سامان کے سبب اس کو قتل کردیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہلِ خانہ کو واپس کردو۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹۴، ۱/۴۱۷)
یہ روایت الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ بخاری اور دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔ یہاں اسی کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ اے ایمان والو! جب تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں چلو تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے یا جس میں اسلام کی علامت و نشانی پاؤ تواس سے ہاتھ روک لو اور جب تک اس کا کفر ثابت نہ ہو جائے اس پر ہاتھ نہ ڈالو اور اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ ابوداؤد اور تر مذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے توحکم دیتے کہ اگرتم کوئی مسجد دیکھو یا اذان سنو تو قتل نہ کرنا۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی دعاء المشرکین، ۳/۶۰، الحدیث: ۲۶۳۵، ترمذی، کتاب السیر، ۲-باب، ۳/۱۹۴، الحدیث: ۱۵۵۴)