ومفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔
{وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنۡدِ غَیۡرِ اللہِ: اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا۔}یہاں قرآنِ پاک کی حقانیت پر ایک نہایت آسان اور واضح دلیل دی جارہی ہے کہ اگر قرآنِ پاک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا ہے تو اس میں بہت زیادہ اختلاف ہوتا، اس میں جو غیب کی خبریں دی گئی ہیں وہ سو فیصد پوری نہ ہوتیں بلکہ کوئی بات توپوری ہوجاتی اور کوئی نہ ہوتی لیکن جب ایسا نہ ہوا بلکہ قرآنِ پاک کی تما م غیبی خبریں بالکل سچی ثابت ہورہی ہیں تو ثابت ہوا کہ یقیناً یہ کتاب، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں کہ کہیں کوئی بات کہہ دی اور کہیں اس کے برخلاف کوئی دوسری بات کہہ دی۔ اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلاغت سے بھرپور ہوتا ہے تو کچھ رکیک و گھٹیا قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ شُعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے شاعر کا کوئی کلام بڑا شاندار ہوتا ہے اور کوئی بالکل گیا گزرا۔ لیکن قرآن چونکہ اللہتعالیٰ کا کلام ہے اوراللہ تعالیٰ ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مرتبے پر ہے۔
وَ اِذَا جَآءَہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الۡاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَلَوْ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۸۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بات میں کاوش کرتے ہیں اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے مگر تھوڑے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب امن یا خوف کی کوئی بات ان کے پاس آتی ہے تو اسے پھیلانے لگتے ہیں حالانکہ اگر اس