Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
258 - 476
فِیۡہِ اخْتِلٰفًا کَثِیۡرًا ﴿۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ 
{ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْٰانَ: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔} یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا رسول ہے۔
قرآنِ مجید میں غورو فکر کرنا عبادت ہے لیکن!
	اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ امام غزالی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔ 
(احیاء العلوم، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵/۱۷۰)
	قرآن کا ذکر کرنا، اسے پڑھنا، دیکھنا، چھونا سب عبادت ہے۔ قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قرآن میں وہی غوروفکر مُعْتَبر اور صحیح ہے جو صاحب ِ قرآنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے فرامین اور حضور پُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے صحبت یافتہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے علوم کی روشنی میں ہو کیونکہ وہ غور و فکر جو اُس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مُشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے غوروفکر کے خلاف ہو، وہ یقینا معتبر نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء ، فُقہاء،محدثین