حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب ا س آگ نے اردگرد کی جگہ کو روشن کر دیا تو اس میں پتنگے اور حشراتُ الارض گرنے لگے، وہ شخص ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ ا س پر غالب آ کر آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہیں ، پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے ،میں تمہاری کمر پکڑ کر تمہیں جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم لوگ میری بات نہ مان کر (پتنگوں کے آگ میں گرنے کی طرح) جہنم میں گرے چلے جا رہے ہو۔
(مسلم، کتاب الفضائل، باب شفقتہ صلی اللہ علیہ وسلم علی امتہ۔۔۔ الخ، ص۱۲۵۴، الحدیث: ۱۸(۲۲۸۴))
سب سے اعلیٰ نعمت:
اور یہ بھی معلوم ہو اکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی سب سے اعلیٰ نعمت ہیں۔ آیت کے شروع میں فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو یاد کرو ، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو یاد کرنا اور ایک دوسرے کو یاد دلانا بہت عمدہ عبادت ہے۔ لہٰذا حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی یاد کیلئے جو محفل منعقد کی جائے خواہ وہ میلاد شریف کی ہو یا معراج کی یا کوئی اور وہ سب بہت عمدہ ہیں اور حکمِ الٰہی پر عمل ہی کی صورتیں ہیں۔
وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡن﴿۱۰۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
{ وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں۔} آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ چونکہ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ تمام کے تمام مسلمان ایک ہی کام میں لگ جائیں لیکن اتنا ضرور ہونا چاہیے