Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
23 - 476
{ وَاذْکُرُوۡا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیۡکُمْ: اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو۔} اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو جن میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اے مسلمانو! یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اور تمہارے درمیان طویل عرصے کی جنگیں جاری تھیں حتّٰی کہ اوس اور خَزْرَج میں ایک لڑائی ایک سو بیس سال جاری رہی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی لیکن اسلام کی بدولت عداوت و دشمنی دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہاری دشمنیاں مٹادیں اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگجو قبیلوں میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے،تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے انہیں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا ورنہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے اور اگر اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے صدقے دولتِ ایمان عطا کرکے اس تباہی سے بچالیا۔ 
جہنم سے بچنے کا سب سے بڑ اوسیلہ:
	اس سے معلوم ہوا کہ سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہمارے لئے دوزخ سے بچنے کا سب سے بڑا وسیلہ ہیں ،چنانچہ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ کچھ فرشتے حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سو رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا:یہ تو سوئے ہوئے ہیں۔دوسرے نے کہا: ان کی آنکھ سوتی اور دل جاگتا رہتا ہے ۔ فرشتوں نے کہا: آپ کے ان صاحب کی مثال ہے لہٰذا وہ مثال بیان کرو۔ ایک نے کہا: وہ تو سوئے ہوئے ہیں۔دوسرے نے کہا: ان کی آنکھ سوتی اور دل بیدار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے گھر بنایا، اس میں دستر خوان بچھایا اور بلانے والے کو بھیجا تو جس نے اس کی دعوت قبول کر لی وہ گھر میں داخل ہو ا اور دستر خوان سے کھانا کھایا اور جس نے دعوت قبول نہ کی وہ نہ گھر میں داخل ہوا اور نہ دستر خوان سے کھانا کھا سکا۔ فرشتوں میں سے ایک نے کہا: اس کا مطلب بیان کیجئے تاکہ بات سمجھ میں آجائے۔ ان میں سے ایک نے کہا :یہ تو سو رہے ہیں۔دوسرے نے کہا: ان کی آنکھ سوتی اور دل بیدار رہتا ہے۔ فرشتوں نے کہا: گھر سے مراد جنت ہے اور بلانے والے سے مراد حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہیں تو جس نے محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی   ا س نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ۔محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اچھے اور برے لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں۔ 
(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  ۴/۴۹۹، الحدیث: ۷۲۸۱)