پاس پائی، اسے فرمایا: یہ زِرَہ میری ہے، میں نے تمہیں بیچی ہے نہ تحفے میں دی ہے۔ یہودی نے کہا: یہ زِرہ میری ہے کیونکہ میرے قبضے میں ہے۔ فرمایا: ہم قاضی صاحب سے فیصلہ کرواتے ہیں ، چنانچہ یہ قاضی شُرَیح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عدالت میں پہنچے ، حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے ۔قاضی شریح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: اے امیرُ المؤمنین! ارشاد فرمائیے۔ فرمایا: اس یہودی کے قبضے میں جو زِرہ ہے وہ میری ہے، میں نے اسے نہ بیچی ہے نہ تحفے میں دی ہے۔ قاضی شریح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہودی سے فرمایا: اے یہودی! تم کیا کہتے ہو؟ یہودی بولا: یہ زِرَہ میری ہے کیونکہ میرے قبضے میں ہے۔ قاضی صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ فرمایا: ہاں ، قنبر اور حسن دونوں اس بات کے گواہ ہیں۔ قاضی صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا: (کہ حسن آپ کے بیٹے ہیں اور شرعی اصول یہ ہے کہ) بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں جائز نہیں۔ جب اس یہودی نے قاضی صاحب کا عادلانہ فیصلہ سنا تو حیرت زدہ ہو کر کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ مجھے قاضی صاحب کے پاس لے کر آئے اور قاضی صاحب نے آپ ہی کے خلاف فیصلہ کر دیا! میں گواہی دیتا ہوں کہ یہی مذہب حق ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اللہتعالیٰ کے رسول ہیں ، یہ زِرہ آپ ہی کی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماس کے اسلام قبول کرنے سے بہت خوش ہوئے ،وہ زِرہ اور ایک گھوڑا اُسے تحفے میں دے دیا۔(تاریخ الخلفاء، ابو السبطین: علی بن ابی طالب، فصل فی نبذ من اخبار علی۔۔۔ الخ، ص۱۸۴-۱۸۵، الکامل فی التاریخ، سنۃ اربعین، ذکر بعض سیرتہ، ۳/۲۶۵)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ ۚ فَاِنۡ تَنٰزَعْتُمْ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمْ تُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو حکم مانواللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں