حوالے کردو جن کی ہیں اور دوسرا حکم یہ ہے کہ جب فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔
اسلامی تعلیمات کے شاہکارـ:
یہ دونوں حکم اسلامی تعلیمات کے شاہکار ہیں اور امن و امان کے قیام اور حقوق کی ادائیگی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کی کچھ تفصیل یوں ہے۔
(1)…امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔
(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱/۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)
(2)… انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا: نظامِ عدل و عدالت کی روح ہی یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے۔ فریقَین میں سے اصلاً کسی کی رعایت نہ کی جائے۔ علماء نے فرمایا کہ حاکم کو چاہئے کہ پانچ باتوں میں فریقین کے ساتھ برابر سلوک کرے۔ (1) اپنے پاس آنے میں جیسے ایک کو موقع دے، دوسرے کو بھی دے۔ (2) نشست دونوں کو ایک جیسی دے۔ (3) دونوں کی طرف برابر مُتَوَجِّہ رہے۔ (4) کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے۔ (5) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پورا پورا دِلائے۔ حدیث شریف میں ہے کہ انصاف کرنے والوں کو قربِ الٰہی میں نورکے منبر عطا کئے جائیں گے۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامام العادل۔۔۔ الخ، ص۱۰۱۵، الحدیث: ۱۸(۱۸۲۷))
قاضی شریح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا عادلانہ فیصلہ:
مسلمان قاضیوں نے اسلام کے عادلانہ نظام اور برحق فیصلوں کی ایسی عظیمُ الشان مثالیں قائم کی ہیں کہ دنیا ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتی، اس موقع پر ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے: جنگِ صفین کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی ایک زِرَہ گم ہو گئی، بعد میں جب آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوفہ تشریف لائے تو وہ زِرہ ایک یہودی کے