{ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ: یہ اللہ کی حدیں ہیں۔} وراثت کے مسائل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حدود قرار دیا اور ان کے توڑنے کو اللہ کی حدیں توڑنا قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ میراث کی تقسیم میں ظلم کرنا عذابِ الٰہی کا باعث ہے۔ اس سے ان مسلمانوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو لڑکیوں یا دوسرے وارثوں کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے’’ جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت میں ا س کے حصے سے محروم کر دے گا۔
(ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب الحیف فی الوصیۃ، ۳/۳۰۴، الحدیث: ۲۷۰۳)
{ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ:اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا۔} اِس آیت میں سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت پر جنت کا وعدہ ہے اور اگلی آیت میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نافرمانی پر جہنم کی وعید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت فرض ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نافرمانی حرام ہے۔ نیز کسی بھی حد ِ شرعی کو توڑنا حرام ہے لیکن تمام حدود کو توڑنے والا کافر ہی ہے یعنی جو ایمان کی حد بھی توڑ دیتا ہے اور اگلی آیتوں میں یہی مراد ہے کیونکہ وہاں نافرمان کیلئے ہمیشہ جہنم میں داخلے کی وعید ہے اور جہنم میں ہمیشہ کافر ہی رہے گا مسلمان نہیں۔
وَالّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الْفٰحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنۡکُمْ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمْسِکُوۡہُنَّ فِی الْبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰىہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرلیں ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر