چھوڑے ہوں توبیوی یا شوہر کواس کاحصہ دینے کے بعد جو مال باقی بچے ا س کا1/3 ایک بٹا تین ماں کودیا جائے گا۔
اس کے علاوہ دو اہم اصول :
(1)… بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملتا ہے اور جہاں بھائی عصبہ بنتے ہوں وہاں انہیں بہنوں سے دگنا ملتا ہے اور کئی جگہ بہنیں بھی عصبہ بن جاتی ہیں اور اصحابِ فرائض کو دینے کے بعد بقیہ سارا مال لے لیتی ہیں۔
(2)… ایک اور اہم قاعدہ ہے کہ قریبی کے ہوتے ہوئے دور والا محروم ہوجاتا ہے جیسے بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا، باپ کے ہوتے ہوئے دادا، بھائی کے ہوتے ہوئے بھائی کی اولاد وغیرہ۔
تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿۱۳﴾ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خٰلِدًا فِیۡہَا ۪ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (تمام) حدوں سے گزر جائے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں (وہ) ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کُن عذاب ہے۔