Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
145 - 476
کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اور یہ بات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خصوصیات میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام قبول کیا، اس کی آٹھ بیویاں تھیں ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اِن میں سے صرف چار رکھنا۔ (ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب فی من اسلم وعندہ نسائ۔۔۔ الخ، ۲/۳۹۶، الحدیث: ۲۲۴۱)
{ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا: پھر اگر تمہیں عدل نہ کرسکنے کا ڈر ہو۔} آیت میں چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی صورت میں سب کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے تو صرف ایک سے شادی کرو۔اسی سے یہ معلوم ہوا کہ اگرکوئی چار میں عدل نہیں کرسکتا لیکن تین میں کرسکتا ہے تو تین شادیاں کرسکتا ہے اور تین میں عدل نہیں کرسکتا لیکن دو میں کرسکتا ہے تو دو کی اجازت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا فرض ہے، اس میں نئی، پرانی، کنواری یا دوسرے کی مُطَلَّقہ، بیوہ سب برابر ہیں۔ یہ عدل لباس میں ، کھانے پینے میں ، رہنے کی جگہ میں اوررات کوساتھ رہنے میں لازم ہے۔ ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔
   وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً ؕ فَاِنۡ طِبْنَ لَکُمْ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا ﴿۴﴾

ترجمۂکنزالایمان: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوش دلی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے پاکیزہ، خوشگوار (سمجھ کر) کھاؤ۔
{ وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو۔}اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کریں پھر اگر ان کی بیویاں خوش دلی سے اپنے مہر میں سے انہیں کچھ تحفے کے طور پر دے دیں تو وہ اسے پاکیزہ اورخوشگوار سمجھ کر کھائیں ، اس میں ان کا کوئی دُنیوی یااُ خروی نقصان نہیں ہے۔ 
(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۴، ۱/۳۴۴، جلالین مع صاوی،  النساء، تحت الآیۃ: ۴، ۲/۳۶۰، ملتقطاً)