کرو) یا لونڈیوں (پر گزارا کرو) جن کے تم مالک ہو۔ یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔
{ وَ اِنْ خِفْتُمْ: اور اگر تمہیں ڈر ہو۔} اِس آیت کے معنی میں چندا قوال ہیں۔
(1)… امام حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ سرپرستی یتیم لڑکیوں سے اُن کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے حالانکہ اُن کی طرف انہیں کوئی رغبت نہ ہوتی تھی، پھر اُن یتیم لڑکیوں کے حقوق پورے نہ کرتے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرتے اور اُن کے مال کے وارث بننے کے لئے اُن کی موت کے منتظر رہتے، اِس آیت میں اُنہیں اِس حرکت سے روکا گیا۔ (صاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۳،۲/۳۵۹)
(2)… دوسرا قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی سرپرستی کرنے سے توناانصافی ہوجانے کے ڈرسے گھبراتے تھے لیکن زنا کی پرواہ نہ کرتے تھے، اِنہیں بتایا گیا کہ اگر تم ناانصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی سرپرستی سے گریز کرتے ہو تو زنا سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ۔
(تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۴۸۵)
(3)… تیسرا قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی سرپرستی میں تو ناانصافی کرنے سے ڈرتے تھے لیکن بہت سے نکاح کرنے میں کچھ خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے، اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں ناانصافی سے بھی ڈرو جیسے یتیموں کے حق میں ناانصافی کرنے سے ڈرتے ہو اور اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو۔
(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ص۲۰۹)
(4)… حضرت عِکْرمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کیا کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کابوجھ نہ اٹھا سکتے تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ۱/۳۴۰)
اِس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی مالی پوزیشن دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔
نکاح سے متعلق 2 شرعی مسائل:
(1)…اِس آیت سے معلوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے۔
(2)…تمام امّت کا اِجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ