Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
79 - 216
دُعائیہ شعر کا مفہوم:
    یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے حضرتِ سیِّدُنا ابوالفَرَح شیخ محمد یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا واسطہ میرے غموں کو خوشیوں میں تبدیل کردے ، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن علی بن احمد علیہ رحمۃ اللہ االاَحَدکا واسطہ مجھے بھی اچھا کردے اور حضرت سیدنا ابُو سَعیدمبارَک مَخزومی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے وسیلے سے مجھے خوش بخت اور سعادت مند بنادے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
وضاحت:

    اس شعر کی خوبی یہ ہے کہ جس بزرگ کی جو کُنیت ذکر کی گئی ہے اسی کی مناسبت سے دعا مانگی گئی ہے ،مثلاً ''ابو الفرح '' کا وسیلہ پیش کر کے فرح یعنی خوشی طلب کی گئی ہے۔ نام اور مدعا میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں میں '' فَرَح ''کا لفظ ہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:

    اس شعر میں سلسلہ  عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چودھویں،پندرھویں اور سولہویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابوالفَرَح شیخ محمد یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن علی بن احمد علیہ رحمۃ اللہ االاَحَد اورحضرت سیدنا ابُو سَعیدمبارَک مَخزومی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان تینوں بُزُرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں:
Flag Counter