Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
73 - 216
ابوالقاسم ہے اورالقابات سیِّدُ الطائفہ،طاؤس العلماء ،زجاج، قواریری اور لسانُ القوم ہیں ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد حضرت سیِّدُنا محمد بن جنید شیشہ کی تجارت کرتے تھے اور نہاوند کے رہنے والے تھے ۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شروع میں آئینہ کی تجارت کرتے تھے اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلاناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور پردہ گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے۔ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا۔پھر آپ نے اپنی دکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کر دی اور حالت مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللہ و  رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے ۔ اس طرح آپ نے 40 سال کاطویل عرصہ گزارا۔ تیس سال تک آپ کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر صبح تک اللہ اللہ کہا کرتے اور اسی وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے۔ آپ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا۔
کامل مُرید
    حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایک مرید تھے جن کی طرف
Flag Counter